4 جولائی، 2026، 8:52 PM

شہید رہبر انقلاب کی الوداعی تقریب عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز، ایران میں عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ

شہید رہبر انقلاب کی الوداعی تقریب عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز، ایران میں عوامی قوت کا بھرپور مظاہرہ

دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے تہران میں شہید رہبر انقلاب کی وداعی تقریب کی براہ راست کوریج کرتے ہوئے اسے ایران کے عوامی اتحاد، مزاحمت اور بین الاقوامی اہمیت کی علامت قرار دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شہید رہبر انقلاب کی وداعی تقریب کو عالمی اور علاقائی ذرائع ابلاغ نے غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے لمحہ بہ لمحہ براہ راست نشر کیا۔ عرب، روسی، چینی اور مغربی میڈیا نے تقریب میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو نمایاں انداز میں اجاگر کیا۔

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے نے بھی اس منظر کی عکاسی کی جس میں لاکھوں ایرانی تہران کے مصلا میں جمع تھے۔ سرخ پرچم اٹھائے سوگوار، آنسوؤں اور نعروں کے درمیان اپنے شہید رہبر کے تابوت کو الوداع کہہ رہے تھے۔

رشیا ٹوڈے کے انگریزی ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے شہید رہبر کی تشییع اور تعزیتی تقریبات جمعہ سے تہران میں شروع ہو چکی ہیں اور آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں مختلف پروگراموں کے ساتھ جاری رہیں گی۔

رپورٹ کے مطابق، شہید رہبر کا پیکر مصلیٰ امام خمینی میں رکھا گیا ہے، جہاں ہزاروں شہری، سرکاری حکام، مذہبی شخصیات اور مختلف ممالک کے وفود خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے موجود ہیں۔

رشیا ٹوڈے نے اس تقریب کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں سے ایک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ایرانی حکومت کو توقع ہے کہ تشییع اور وداعی تقریبات میں لاکھوں افراد شریک ہوں گے۔

سی این این نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ تہران کا مصلیٰ شہید رہبر کی وداعی تقریب کے دوران آنسوؤں اور انتقام کے نعروں سے گونج اٹھا۔ سوگواروں نے تہران میں آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای کے پیکر کو الوداع کہا اور امریکہ کے خلاف انتقام کے نعرے لگائے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے لکھا کہ اس تقریب میں گونجنے والے نعروں کا مرکزی پیغام صرف ایک تھا: "انتقام"۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے تقریب کے آغاز کی کوریج میں رپورٹ کیا کہ لوگ صبر کے ساتھ تقریب کے آغاز اور مقام تک پہنچنے کے منتظر تھے۔

اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا کہ ہزاروں سوگوار سرخ پرچم، جن پر "شہید" درج تھا، اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے۔ سرکاری تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی بڑی تعداد میں لوگ مصلی پہنچ چکے تھے، جبکہ بعض افراد کئی کلومیٹر پیدل چل کر وہاں آئے تھے۔

روسی نشریاتی ادارے آر ٹی عربی نے بھی رپورٹ کیا کہ ایران کے مختلف علاقوں سے آنے والے عوام کی بڑی تعداد تہران کے مصلیٰ میں موجود ہے تاکہ اپنے مرحوم رہبر کے پیکر کو خراج عقیدت پیش کر سکے۔

رپورٹ کے مطابق، تقریب میں شریک افراد مختلف نعرے لگا رہے تھے اور شہید رہبر کے خون کا انتقام لینے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

روسی خبر رساں ادارے ریانووستی نے تقریب کی خصوصی تصاویر نشر کرتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ایرانی حکام کے مطابق تقریب میں تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد کی شرکت متوقع ہے۔

قطری ویب سائٹ عربی 21 نے لکھا کہ مختلف ممالک کے سرکاری وفود اور سفارتی نمائندوں کی موجودگی نے اس تقریب کو ایک بین الاقوامی اہمیت کا حامل اجتماع بنا دیا، جبکہ برطانوی ویب سائٹ مڈل ایسٹ مانیٹر نے اسے محض مذہبی تقریب نہیں بلکہ مزاحمت اور عالمی سیاسی بیانیے کی علامت قرار دیا۔

چینی اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ لاکھوں ایرانیوں کی شرکت نے اس تقریب کو اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں کے مقابلے میں قومی طاقت اور اتحاد کے مظاہرے میں تبدیل کر دیا۔

News ID 1940137

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha